جل تھل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بحرو بر، خشکی وتری، وہ زمین جو پانی سے ڈھک جائے (بارش کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں)۔ "نتیجہ یہ ہوا کہ کہ تخلیق کی پیاسی سرزمین پر سارے برعظیم میں وہ موسلا دھار بارش ہوئی کہ جل تھل ہو گیا۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٥٢٥:١ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ دو اسما پر مشتمل مرکب ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٢ء میں "کلیات شاہی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بحرو بر، خشکی وتری، وہ زمین جو پانی سے ڈھک جائے (بارش کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں)۔ "نتیجہ یہ ہوا کہ کہ تخلیق کی پیاسی سرزمین پر سارے برعظیم میں وہ موسلا دھار بارش ہوئی کہ جل تھل ہو گیا۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٥٢٥:١ )

جنس: مذکر